ڈیجیٹل ڈیزائنر حنا جاوید کے بہیمانہ تشدد اور قتل کیس میں ملزم زیشان ارشد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصیر احمد نے سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر ریکارڈ پیش کرنے کے بجائے لاہور چلا گیا، جبکہ آئندہ تاریخ پر ایس ایچ او ہر صورت ریکارڈ پیش کرے۔
گرفتار ملزم زیشان ارشد کے دو وکلا کی جانب سے دو وکالت نامے پیش کیے گئے۔ عدالت کے مطابق جیل سے دو مختلف بائیومیٹرک اور دو وکالت نامے کلیئر ہوئے، دونوں وکالت نامے سپرنٹنڈنٹ جیل کو بھیج کر کلیئرنس لینے کا حکم دے دیا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی حساس ہائی پروفائل کیس ہے، کسی کی ہینکی پھینکی نہیں چلے گی۔
مقتولہ حنا جاوید کی فیملی نے بھی پولیس تفتیش اور رویے پر سوالات اٹھاتے ہوئے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مقتولہ کے خاندان کی جانب سے سابق جج ہائیکورٹ شاہ خاور پیش ہوں گے، جبکہ حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید نے بائیومیٹرک تصدیق کرا لی ہے۔
حنا جاوید کو ہاتھ پاؤں باندھ کر 20 اگست کو قتل کیا گیا تھا۔

