خراب موسم یا ہنگامی صورت حال میں کراچی سمیت دیگر ایئرپورٹس پر پروازوں کی لینڈنگ میں مشکلات کے پیش نظر حیدرآباد ائیرپورٹ کو متبادل ایئرپورٹ کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق حیدرآباد ائیرپورٹ کے رن وے کی موجودہ لمبائی تقریباً 7 ہزار فٹ سے بڑھا کر 11 ہزار 500 فٹ کرنے کی تجویز ہے، جس کے بعد ایئرپورٹ پر بوئنگ 777 جیسے بڑے طیاروں کی لینڈنگ بھی ممکن ہوسکے گی، ائیرپورٹ کی اپ گریڈیشن کے منصوبے میں لینڈنگ کرنے والی پروازوں کے مسافروں کے لیے بہتر متعلقہ سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد ایئرپورٹ کو بطور علاقائی فضائی مرکز ترقی دینے سے اندرون ملک پروازوں کے ممکنہ آغاز میں بھی مدد ملے گی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورت حال میں حیدرآباد ایئرپورٹ کو متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کیے جانے کی صورت میں مسافروں کو بذریعہ سڑک کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں تک منتقل کرنا بھی نسبتاً آسان ہوگا، جس سے مسافروں کو درپیش مشکلات کم کی جاسکیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد ائیرپورٹ سے ممکنہ علاقائی پروازوں کے آغاز کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کیے جانے کا امکان ہے اور ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن کے بعد اس کے فضائی آپریشنز کو مرحلہ وار وسعت دینے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حیدرآباد ائیرپورٹ سے آخری کمرشل پرواز 2013 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے آپریٹ کی تھی، جس کے بعد ایئرپورٹ پر باقاعدہ کمرشل فضائی آپریشنز معطل ہیں، حیدرآباد ایئرپورٹ کی مجوزہ اپ گریڈیشن سے نہ صرف ہنگامی صورت حال میں متبادل ائیرپورٹ کی ضرورت پوری ہونے بلکہ اندرون سندھ فضائی رابطوں کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

