آسٹریلیا کا غیر ملکی طلبہ کے اہل خانہ لانے پر پابندی کا فیصلہ

آسٹریلیا کا غیر ملکی طلبہ کے اہل خانہ لانے پر پابندی کا فیصلہ

آسٹریلیا نے ملک میں بڑھتی ہوئی ہجرت کو محدود کرنے کے لیے غیر ملکی طلبا کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک امیگریشن پالیسی میں نئی تبدیلیوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔

تاہم آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے اپنی رپورٹ میں وزیر داخلہ کی متوقع تقریر سے قبل چند اہم نکات شیئر کی ہیں۔

جس کے تحت بین الاقوامی طلبا دورانِ تعلیم اپنے شریکِ حیات، پارٹنر اور بچوں کو اپنے ساتھ آسٹریلیا لانے سے محروم ہوسکتے ہیں۔

ان پابندیوں میں غیر ملکی طلبا کے اہلخانہ کو ساتھ لانے کے ساتھ ساتھ پر پابندی اور عارضی ویزا رکھنے والوں کے لیے ایک ویزا سے دوسرے ویزا پر منتقل ہونے کے قوانین سخت کرنا شامل ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کا ہدف 2028 تک خالص بیرونِ ملک ہجرت کو موجودہ تقریباً 3 لاکھ سے کم کرکے 2 لاکھ 25 ہزار سالانہ تک لانا ہے۔

طلبا کے موجودہ حقوق کیا ہیں؟

اس وقت آسٹریلیا میں زیر تعلیم بین الاقوامی طلبا اپنے شریکِ حیات یا پارٹنر کو ملک میں ساتھ رکھنے کے لیے متعلقہ ویزا انتظامات کرسکتے ہیں جبکہ زیر کفالت 18 سال سے کم عمر بچوں کو بھی ساتھ لانے کی اجازت ہے۔

طلبا کے شریکِ حیات اور پارٹنرز کو آسٹریلیا میں کام کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے تاہم کام کے اوقات طالب علم کے کورس اور ویزا کی شرائط کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔

مجوزہ تبدیلی نافذ ہونے کی صورت میں غیر ملکی طلبا کے لیے آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے وقت خاندانی افراد کو ساتھ رکھنے کا موجودہ راستہ نمایاں طور پر محدود ہوجائے گا۔

ہجرت کم کرنے کا منصوبہ

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں خالص بیرونِ ملک ہجرت میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے سال میں خالص بیرونِ ملک ہجرت 3 لاکھ 6 ہزار رہی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 4 لاکھ 29 ہزار اور 2023 میں 5 لاکھ 18 ہزار کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔

بین الاقوامی طلبا اس ہجرت میں ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں اور 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق خالص ہجرت میں ان کا حصہ نصف سے زیادہ تھا۔

ہاؤسنگ اور انفرااسٹرکچر پر دباؤ

آسٹریلیا میں ہجرت میں اضافے کے ساتھ رہائش، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات پر دباؤ کے حوالے سے بحث بھی تیز ہوئی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ نئے آنے والوں کی بڑی تعداد نے خصوصاً رہائش کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

آسٹریلیا نے فروری 2022 میں تقریباً دو سال کی کووڈ پابندیوں کے بعد اپنی سرحدیں دوبارہ کھولیں جس کے بعد بین الاقوامی طلبا، بیک پیکرز اور عارضی ہنرمند کارکنوں سمیت مختلف زمروں میں آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

تاہم گزشتہ دو برس کے دوران خالص ہجرت میں کمی کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔

ون نیشن کا دباؤ بھی بڑھ گیا

حکومت کی نئی پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دائیں بازو کی جماعت ون نیشن نے عارضی تارکینِ وطن کی تعداد میں بڑی کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

ون نیشن نے رواں ہفتے کہا تھا کہ وہ تین سال کے دوران عارضی تارکینِ وطن کی تعداد میں 7 لاکھ 50 ہزار تک کمی لانا چاہتی ہے تاکہ آسٹریلوی شہریوں پر دباؤ کم ہو۔

جماعت نے ابتدائی تین سال کے بعد خالص بیرونِ ملک ہجرت کی حد 1 لاکھ 30 ہزار سالانہ تک محدود کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جبکہ اس پروگرام کا سالانہ جائزہ لینے کی بات کی گئی ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *